وعدہ معاف

دیکھ تو، وعدہ معاف کتنے ہیں

لوگ تیرے، خلاف کتنے ہیں

آئے دِن، ٹوٹ کر برستا ہے

آسماں میں شگاف، کتنے ہیں
نعیم اکرم ملک