وسوسہ

وسوسہ

میری تازہ غزل، وسوسہ۔

پریشانیاں اور دکھ شاعر کو اندر سے کھا جاتے ہیں لیکن اگر یہ چیزیں نہ ہوں تو شاید کوئی اچھا شعر بھی کہہ نا پائے۔

چوٹ پڑتی ہے تو آواز آتی ہے۔ اور فنکار عام آدمی سے ذرا زیادہ حساس ہوتے ہیں اسلئے انکی آواز بھی زیادہ آتی ہے۔

سر اُٹھاتا ہے وسوسہ صاحب
جان لیواہے مرحلہ صاحب
وہ جو اِک پھول تھا، گیا مُرجھا
جو ستارہ تھا، بُجھ گیا صاحب
کاٹتا ہے یہاں پہ ہر کوئی
اپنے حصے کا رتجگا صاحب
بات دِل میں رکھی نہیں جاتی
بول دیتے ہیں برملا صاحب
ایک دوجے کے ساتھ چلتے ہیں
راستہ، موت، حادثہ صاحب
نعیم اکرم

Advertisements

غزل – فرصت و اختیار کے دِن تھے

فرصت و اختیار کے دِن تھے

کتنے اچھے بہار کے دِن تھے

وہ جو شامیں حسین شامیں تھیں

وہ جو دِن تھے، خمار کے دِن تھے

آپکے ساتھ ہوا کرتے تھے

قربت و افتخار کے دِن تھے

نعیم اکرم