سانپ جو آستیں میں رہتا ہے

سانپ جو آستیں میں رہتا ہے
زلزلے سا زمیں میں رہتا ہے
جوہری دیکھ بھی نہیں سکتا
بال چھپ کر نگیں میں رہتا ہے
سوچ چھوٹی بہت نعیمؔ کی ہے
آج کل میں یہیں میں رہتا ہے
نعیم اکرم

Advertisements