جل پری


جل پری

جل پری

وہم ہونا خیال ہونا تھا

زندگی کو سوال ہونا تھا

تو مثالیں سنایا کرتا تھا

آپ تجھ کو مثال ہونا تھا

کس نے سوچا تھا عشق میں اک دن

نعیم تیرا یہ حال ہونا تھا

جل پری کے نصیب ایسے تھے

سارے دریا کو جال ہونا تھا

 نعیم اکرم

نوٹ: ایک شعر توقیر عباس شاہ صاحب کی تصحیح کی وجہ سے حذف کیا گیا ہے۔

Advertisements

1 تبصرہ

  1. اپریل 20, 2015 بوقت: 6:33 صبح

    وہ ایک جل پری تھی ، زندگی کے ساحل کے قریب ،کبھی پانی میں کبھی پانی سے باہر، بے چین و بے قرار،پانی میں ہوتی تو یوں جیسے ڈوب رہی ہو کوئی آئے اوراُسے نکال لے جائے اور پانی سے باہر پیاس سے بے حال ہو جاتی ۔ رنگوں کی ہمہ گیری نظروں کو اُس کے قریب لاتی ۔ پانی میں ہوتی تو قوس ِقزح کی صورت اُبھرتی ۔
    http://noureennoor.blogspot.com/2013/05/blog-post_4500.html


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: