کچھ کچا پکا کلام۔۔۔


(1)

تجھ  سے  لڑ  کر  جیتا  ہوں

سولی  چڑھ   کر   جیتا  ہوں

پیچھے   رہ  کر   ہارا   تھا

آگے   بڑھ   کر   جیتا   ہوں

(2)

پلک  جھپک  میں  کھو  سکتا  تھا

 ایسا   کچھ   بھی   ہو   سکتا  تھا

جگراتوں     کا     مارا     مجرم

سولی  پر  بھی   سو   سکتا   تھا

بنجر    آنکھوں     والا     پنچھی

آخر    کیسے    رو    سکتا   تھا؟

(3)

بیٹھے   بیٹھے   سر   کٹ   جاتے

کم  از  کم  کچھ  پر   کٹ   جاتے

ایسے   جیون   سے   بہتر   تھا

جا   کر   مقتل   پر   کٹ   جاتے

(4)

سمع   کا   دھوکا،   بصر   کا   دھوکا

عروج    پر    ہے   بشر   کا   دھوکا

فتح   کا   دھوکا،   نصر   کا   دھوکا

تمام    تیری     نظر     کا     دھوکا

آخری قطعہ میں تلفظ کا غلط استعمال کیا گیا تھا۔ توقیر عباس شاہ صاحب نے درستگی فرمائی، اسلئے ان پر لکیر پھیر رہا ہوں۔

گزشتہ کافی دنوں سے یہ چند نا مکمل غزلیں میرے ذہن میں تھیں، کسی صورت مکمل ہوتی نہ دکھیں تو میں نے ایسے ہی آپکی خدمت میں پیش کر دیں۔۔۔

Advertisements

6 تبصرے

  1. جون 24, 2011 بوقت: 3:20 صبح

    ماشا اللہ بہت ہی خوب اسے آپ کچھا پکا کلام کہتے ہیں
    آج پہلی بار آپ کا کلام دیکھا بہت ہی اچھا اندازِ تحریر ہے آپ کا

  2. جون 24, 2011 بوقت: 6:11 صبح

    ماشاءاللہ کیا خوب جناب
    کوشش کریں ان کو مکمل کرنے کی

    بیٹھے بیٹھے سر کٹ جاتے

    کم از کم کچھ پر کٹ جاتے

    ایسے جیون سے بہتر تھا

    جا کر مقتل پر کٹ جاتے

    بہت خوب جناب

  3. Naeem said,

    جون 24, 2011 بوقت: 1:20 شام

    بڑی مہربانی یاسر بھائی اور خرم بھائی۔۔۔
    یاسر بھائی عوام الناس تو پسند کر لیں گے، لیکن مستند شعراء کی اکثریت اسے شاعری ماننے سے ہی انکار کر دے گی۔ شعراء سے سیکھنے کی کوشش کر ہی رہا ہوں، امید ہے وقت کے ساتھ ساتھ بہتری آ جائے گی۔۔۔

  4. اگست 31, 2011 بوقت: 4:47 صبح

    میں نے چاہا اس عید پر
    اک ایسا تحفہ تیری نظر کروں
    اک ایسی دعا تیرے لئے مانگوں
    جو آج تک کسی نے کسی کے لئے نہ مانگی ہو
    جس دعا کو سوچ کر ہی
    دل خوشی سے بھر جائے
    جسے تو کبھی بھولا نہ سکے
    کہ کسی اپنے نےیہ دعا کی تھی
    کہ آنے والے دنوں میں
    غم تیری زندگی میں کبھی نہ آئے
    تیرا دامن خوشیوں سے
    ہمیشہ بھرا رہے
    پر چیز مانگنے سے پہلے
    تیری جھولی میں ہو
    ہر دل میں تیرے لیے پیار ہو
    ہر آنکھ میں تیرے لیے احترام ہو
    ہر کوئی بانہیں پھیلائے تجھے
    اپنے پاس بلاتا ہو
    ہر کوئی تجھے اپنانا چاہتا ہو
    تیری عید واقعی عید ہوجائے
    کیوں کہ کسی اپنے کی دعا تمہارے ساتھ ہے

  5. umar farooq said,

    جنوری 26, 2012 بوقت: 11:36 صبح

    کافی اچھا کولیکشن ہے بھائی
    شکریہ

  6. zahra naseer said,

    جنوری 26, 2013 بوقت: 10:53 صبح

    پلک جھپک میں کھو سکتا تھا.
    نعیم بھائی اس کو مکمل کریں.
    زارا


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: