کوئی حیوان چھپا بیٹھا ہے


کوئی حیوان چھپا بیٹھا ہے
ایک ہیجان چھپا بیٹھا ہے
اِس دمکتے ہوئے کاشانے میں
قصرِ ویران چھپا بیٹھا ہے

کیا خبر سُوٹ بُوٹ کے پیچھے
کیسا انسان چُھپا بیٹھا ہے
بن کے ایاز تیری محفل میں
دیکھ سُلطان چھپا بیٹھا ہے

خیر و شر کا تمام اِس دِل میں
ساز و سامان چھپا بیٹھا ہے
دیکھ کر تجھکو یقیں ہوتا ہے
تجھ میں بھگوان چھپا بیٹھا ہے

اٹھ گئی جگنوئوں سے پابندی
تو کہ انجان چھپا بیٹھا ہے
ایک اک جُنبشِ ابرو میں نعیم
لاکھ فرمان چھپا بیٹھا ہے

 

معذرت چاہتا ہوں، وقت کی کمی کے باعث اشعار کی فارمیٹنگ الائنمنٹ درست نہیں کر سکا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: