فہم و ادراک سے بالا کیوں ہے؟


فہم و ادراک سے بالا کیوں ہے؟
تیرا   انداز   نرالا   کیوں   ہے؟

کیوں جبیں چاند سی چمکتی ہے؟
اور آنکھوں میں اجالا کیوں ہے؟

نام  کس  کے  ہے  جوانی  تیری؟
خود کو اس قدر سنبھالا کیوں ہے؟

Advertisements

6 تبصرے

  1. ستمبر 20, 2010 بوقت: 10:44 شام

    نام کس کے ہے جوانی تیری؟
    خود کو اس قدر سنبھالا کیوں ہے؟

    بھائی صاحب!۔
    پتہ نہیں آپ کیا ڈئزائین کرتے ہیں؟۔ مگر اس مندرجہ بالا شعر سے آپ پہ "حد” جاری ہوسکتی ہے۔ 🙂

    فہم و ادراک سے بالا کیوں ہے؟
    تیرا انداز نرالا کیوں ہے؟

    بہت خوب!

    • Naeem said,

      ستمبر 21, 2010 بوقت: 12:13 شام

      ارے گوندل صاب سادہ سا سوال ہے، اس میں حدود آرڈیننس کہاں سے آ گیا؟ میں کمپیوٹر سافٹ ویئر ڈیزائن کرتا ہوں۔۔۔

  2. kulkalam said,

    ستمبر 21, 2010 بوقت: 4:38 صبح

    کیوں جبیں چاند کی صورت چمکے؟
    اور آنکھوں میں اجالا کیوں ہے؟

    نام کس کے ہے جوانی تیری؟
    خود کو اِس طور سنبھالا کیوں ہے؟

    معذرت کے ساتھ تصیح کی ہے کیونکہ آپ کے اشعار وزن سے گر رہے تھے۔
    امید ہے کہ آپ نے بُرا نہیں مانا ہو گا۔

    • Naeem said,

      ستمبر 21, 2010 بوقت: 12:12 شام

      بڑی کرم نوازی ہے آپکی، میں ابھی شاعری سیکھ رہا ہوں۔ کوئی تصحیح کرے تو بُرا نہیں مناتا۔

  3. Aniqa Naz said,

    ستمبر 21, 2010 بوقت: 6:14 صبح

    بہت خوب۔ بڑی روانی ہے۔

  4. ستمبر 21, 2010 بوقت: 6:34 شام

    معلوم نہیں جناب


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: