دائرے میں بھنور میں رہتے ہیں


دائرے میں، بھنور میں رہتے ہیں
لوگ جو اس نگر میں رہتے  ہیں
منزلوں   کا    نشاں    نہیں   ملتا
جانے  کیسے سفر میں رہتے ہیں

ہوش    ان     کو    مگر    نہیں    آتا
کس   دوا   کے   اثر  میں  رہتے  ہیں؟
منتشر      منتشر       خیال       انکے
شام  میں،  اور  سحر  میں  رہتے ہیں

سنگ    باری    کا    شوق    پالا    ہے
اور  شیشے  کے  گھر  میں  رہتے  ہیں

Advertisements

16 تبصرے

  1. جون 24, 2010 بوقت: 2:21 شام

    واہ واہ واہ
    پوچھنا يہ ہے کلام کی آمد کيسے ہوتی ہے

    • Naeem said,

      جون 24, 2010 بوقت: 2:52 شام

      سچ بتائوں تو مجھے بھی نہیں پتہ کہ کیسے آتا ہے، بس بیٹھے بٹھائے آ جاتا ہے۔۔۔

      • عثمان said,

        جون 27, 2010 بوقت: 9:48 شام

        سیانے کا کہنا تھا کہ موت اور ” وہ ” بغیر بتائے آتی ہے۔
        میرا خیال ہے ان بن بلائے مہمانوں کی فہرست میں شاعری کو بھی شامل کر لینا چاہیے۔

        ( برا نہ منائے گا ۔ میری ذرا مخول کرنے کی عادت ہے۔ بین السطور آپ کی شاعرانہ صلاحیتوں کی داد ہی دے رہا ہوں )

  2. Saad said,

    جون 25, 2010 بوقت: 2:35 صبح

    بالکل صحیح کہا آپ نے۔ معلوم ہی نہیں منزل کہاں

  3. جون 25, 2010 بوقت: 3:44 صبح

    حالاتِ حاضرہ کا اچھا نقشہ ہے

  4. جون 25, 2010 بوقت: 5:00 صبح

    اچھے اشعار ہیں ملک صاحب۔

  5. BILLUBILLA said,

    جون 28, 2010 بوقت: 8:57 صبح

    Nice Blog

  6. hamid said,

    جون 28, 2010 بوقت: 2:14 شام

    wah g wah kia baat ha!keep it up good klamm!

  7. جولائی 7, 2010 بوقت: 11:27 صبح

    ہمارے ملک کی عوامی پارٹی يعنی پی پی پی کو توڑ پھوڑ کی عادت ہے مگر وہ شيسے کے گھر ميں نہيں رہتے بنکروں ميں رہتے ہيں

    • Naeem said,

      جولائی 7, 2010 بوقت: 1:06 شام

      فنِ بنکر سازی ہمارے سیاستدانوں نے اپنے فوجی مرشدوں سے سیکھا ہے

  8. جولائی 8, 2010 بوقت: 3:25 شام

    بہت خوب، یہ شعر لاجواب ہے
    منزلوں کا نشاں نہیں ملتا
    جانے کیسے سفر میں رہتے ہیں

  9. جولائی 17, 2010 بوقت: 12:57 صبح

    بہت خوب ۔

    منزلوں کا نشاں نہیں ملتا
    جانے کیسے سفر میں رہتے ہیں

    زبردست۔

  10. farhan said,

    اگست 12, 2010 بوقت: 7:54 شام

    نعیم بھای یہ ایک شہکار نظم ہے۔ آپ چھا گیے ہیں۔

  11. bilal raza said,

    دسمبر 9, 2010 بوقت: 3:22 شام

    salaam!!! muaaf kijiye ga sarkaar aap ki parhi gai new ghazal jo k tarannum me hai yani "”phir gardish-e-dauraan”” wali me aap ne 2 behron ko kai aik jaga per yakja kiya hai
    main ne is ki conformation apni aik dost jo k KUL PAK o HINDH mushaaira cattagory 11 se 15 saal 2 martaba aur 16 se 19 saal 3 martaba janab basheer badar, qamar jalali, waseem barelvi aur deegar naamvar shuara ki maujoodgi me jeet chuki hai se karvaai hai!!! huzoor mufaai chahta hun magar aap ki ghazliyaat achi to zaroor hain magar un me aksar jaga beher dohra bn jata hai!!!

    • Naeem said,

      دسمبر 9, 2010 بوقت: 3:59 شام

      بلال صاحب سیکھ رہا ہوں ابھی، چند اچھے شعرا ہیں جن سے اصلاح لیتا ہوں۔۔۔ توقیر عباس صاحب خاص طور پر۔۔۔ ویسے پہلے جب وحید اختر واحد پاکستان میں تھے تو ان کو بھی گاہے بگاہے اپنا کام دکھا لیا کرتا تھا۔۔۔ سچ بات تو یہ ہے کہ مجھے بحروں کی سمجھ بوجھ ہی کوئی نہیں ہے۔ تقطیع اور بحروں کے بارے میں پڑھ ضرور رکھا ہے، لیکن گرامر مجھے یاد کبھی نہیں رہی۔ بڑے شعراء کو میرا کام پسند نہیں آتا تو نہ آئے، میں نے کونسا مقابلہ جیتنا ہے۔۔۔ شاعری مشغلہ ہے۔۔۔ کبھی پانچ دس بیس سال بعد جا کے بحریں وحریں بھی سیدھی ہو ہی جائیں گی۔۔۔ تب تک عوامی قسم کی قلابازیاں ہی سہی۔۔۔


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: