کچھ حقیقت ہے، کچھ فسانہ ہے


کچھ  حقیقت  ہے،  کچھ  فسانہ  ہے
یہ   بڑا    ہی   عجب   زمانہ   ہے

سارے    اعمال    دشمنوں   والے
صرف     انداز     دوستانہ     ہے

دیکھنے   میں‌   نئی   عمارت   ہے
اسکے    اندر    سبھی   پرانا   ہے

جانے  کب  دل  میں  اتر جاءے گا
آنکھ  میں  جس  کا  آنا   جانا   ہے

کیا  خبر  کون  یاد  رہ  جاءے
کیا پتہ کس کو بھول جانا  ہے

Advertisements

6 تبصرے

  1. جون 12, 2010 بوقت: 7:32 صبح

    باتيں تو عملی زندگی کا حصہ ہيں

  2. globalurdu said,

    جون 12, 2010 بوقت: 3:56 شام

    اگر اسطرح باندھیں تو تقطیع پر پورا اترے گا

    جانے کب دل میں وہ اتر جاےء

    خیر اندیش

    ظفرامر

    • Naeem said,

      جون 14, 2010 بوقت: 10:28 صبح

      میں نے خود تقطیع نہیں کی تھی جیسے ذہن میں آئی ویسے ہی لکھ دی۔ بہت شکریہ امر صاحب۔

  3. جون 12, 2010 بوقت: 5:01 شام

    السلا م علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    بہت خوب ، بہت اچھے

    والسلام
    جاویداقبال

  4. جون 24, 2010 بوقت: 10:59 صبح

    يہ شاعری آپ کی اپني ہے يا نہيں ، اگر اپنی ہے تو بہت اچھی ہے مگر اسکا محرک کيا ہے

    • Naeem said,

      جون 24, 2010 بوقت: 1:11 شام

      الحمد اللہ ناچیز کی اپنی کاوش ہے۔۔۔ محرک نہیں ہے، محرکات ہیں۔۔۔ آپ شاعری کھائیں پیڑ مت گنیں۔۔۔


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: