دل جلاتا ہے، بھول جاتا ہے


دل  جلاتا  ہے،  بھول  جاتا  ہے
آزماتا   ہے،   بھول    جاتا   ہے

مجھ  سے  وہ دور رہ نہیں سکتا
پاس  آتا   ہے،  بھول   جاتا  ہے

میری  حالت  کو  دیکھ  کر   اکثر
مسکراتا  ہے،  بھول   جاتا    ہے

اُس  پری زاد  کی  خاصیت   ہے
ترس  کھاتا  ہے،  بھول جاتا  ہے

ساتھ رہتا  ہے  گیت  الفت  کے
گنگناتا   ہے   بھول   جاتا  ہے

لوٹ آنے کے سبھی وعدوں کو
دور  جاتا  ہے،  بھول  جاتا ہے

کافی عرصے بعد تازہ غزل پیش خدمت ہے، ہر شاعر پر "شاعرانہ قبض” کا ایک دور آتا ہے اور اس دور میں وہ بیچارہ یا بیچاری کچھ بھی نہیں لکھ پاتا۔ میں بھی اُنہی ایام سے گزر رہا ہو۔ اللہ کا شکر ہے کہ ایک غزل لکھی گئی، اللہ کرے مزید بھی لکھ سکوں۔

Advertisements

6 تبصرے

  1. اپریل 24, 2010 بوقت: 6:14 شام

    جی ہاں یہ "ایام مخصوصہ ” تقریبا ہر لکھاری پر آتے ہیں

  2. Adeel said,

    اپریل 26, 2010 بوقت: 5:13 شام

    poetic kabaz k baad ur poetic health is looking zbrdst.

  3. Yasir Imran said,

    مئی 20, 2010 بوقت: 7:18 شام

    شاعر بھی اور کمپیوٹر پروگرامر بھی ؟
    دونوں چیزوں کا کوئی جوڑ نہیں

  4. jafar said,

    مئی 25, 2010 بوقت: 6:42 شام

    عمدہ ہے جی۔۔
    خاص طور پر آخری شعر

  5. عثمان said,

    جون 8, 2010 بوقت: 5:14 صبح

    لو جی!

    میں سمجھا کہ "شاعری” پر میں اکیلا ہی ہاتھ صاف کر رہا ہوں۔ لیکن یہاں تو بڑے بڑے بیٹھے ہیں۔

    اچھا کلام ہے!!


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: