دل جلاتا ہے، بھول جاتا ہے

دل  جلاتا  ہے،  بھول  جاتا  ہے
آزماتا   ہے،   بھول    جاتا   ہے

مجھ  سے  وہ دور رہ نہیں سکتا
پاس  آتا   ہے،  بھول   جاتا  ہے

میری  حالت  کو  دیکھ  کر   اکثر
مسکراتا  ہے،  بھول   جاتا    ہے

اُس  پری زاد  کی  خاصیت   ہے
ترس  کھاتا  ہے،  بھول جاتا  ہے

ساتھ رہتا  ہے  گیت  الفت  کے
گنگناتا   ہے   بھول   جاتا  ہے

لوٹ آنے کے سبھی وعدوں کو
دور  جاتا  ہے،  بھول  جاتا ہے

کافی عرصے بعد تازہ غزل پیش خدمت ہے، ہر شاعر پر "شاعرانہ قبض” کا ایک دور آتا ہے اور اس دور میں وہ بیچارہ یا بیچاری کچھ بھی نہیں لکھ پاتا۔ میں بھی اُنہی ایام سے گزر رہا ہو۔ اللہ کا شکر ہے کہ ایک غزل لکھی گئی، اللہ کرے مزید بھی لکھ سکوں۔

بس عشق تیرے کا رونا ہے

بس عشق تیرے کا رونا ہے
اور   ہمیں   کیا   ہونا   ہے
کیا    پانا   کیا   کھونا   ہے
یہ  اوڑھنا،  یہی بچھونا ہے

تیری یادوں سے مہک رہا
کمرے  کا  کونا  کونا  ہے
اب کھیلتا ہے کل توڑے گا
دِل  اپنا  کوئی   کھلونا   ہے

تیرے آنسو ایسے موتی ہیں
ناممکن  جنہیں   پِرونا   ہے
چل نعیم نہیں کوئی اور سہی
تُو   ہو  جا  جسکا  ہونا  ہے