جواب نصیحت


جواب نصیحت

جانے دے شور  مچاتا  کیوں  ہے
چُپ بھلا مجھکو کراتا  کیوں  ہے
عقل کے گھوڑے بھگاتا کیوں ہے
خاک   اسقدر   اُڑاتا   کیوں   ہے

دشت میں شہر بسا لوں گا میں
حوصلہ  میرا  گھٹاتا کیوں ہے
آنکھ میں خواب سجا لینے دے
آنکھ میں آگ  لگاتا  کیوں  ہے

بڑی محنت سے جہاں  چھوڑا  ہے
پھر مجھے اس سے مِلاتا کیوں ہے
میں  نے  مانا  تو  میرا  محسن  ہے
بات  بے    بات   جتاتا   کیوں   ہے

 نیند   آنی   ہو  تو  آ  جاتی  ہے
مجھ  پہ   الزام  لگاتا  کیوں  ہے
زخم جتنے بھی میرے گہرے ہیں
جا کے اوروں کو بتاتا  کیوں  ہے

چھوڑ دوں کیسے جو ہو گزری ہے
یاد  رکھنے  دے  بُھلاتا  کیوں   ہے
نعیم   کے   دوست   آفریں  تجھ  پر
دشمنی   مجھ سے نبھاتا   کیوں  ہے

Advertisements

2 تبصرے

  1. imtiyazkhan said,

    مارچ 17, 2010 بوقت: 11:58 صبح

    ”میں نے مانا تو میرا محسن ہے
    بات بے بات جتاتا کیوں ہے”
    بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

  2. Saad said,

    مارچ 19, 2010 بوقت: 5:52 صبح

    بہت خوب جناب


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: