اپنے قدموں کے نشاں دیکھتا ہوں


اپنے قدموں کے نشاں دیکھتا ہوں
وقت  لے  آیا   کہاں   دیکھتا  ہوں
جیت   اور   ہار   کے  تقابل  میں
سود  کو چھوڑ زیاں  دیکھتا  ہوں

آس  جب  ٹوٹ  پھوٹ  جاتی  ہے
پھر سے جذبات جواں دیکھتا ہوں
دیر  سے  سفر  کئیے   جاتا   ہوں
دور  منزل  کا  نشاں  دیکھتا  ہوں

اب  تو  انجم  بھی  قریں  لگتے  ہیں
اِک  نرالا   ہی   جہاں   دیکھتا   ہوں
وہ   جو   کل   پاس   ہوا   کرتا   تھا
گرد    میں   آج   نہاں   دیکھتا   ہوں

قافلہ     اجل     کے     پروانوں     کا
موج   در   موج   رواں   دیکھتا   ہوں

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں۔ مصنف کے کام کے کسی بھی حصے کی فوٹو کاپی، سکیننگ کسی بھی قسم کی اشاعت مصنف کی اجازت کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: