قطعات


قطعات

1
قید    میں   زندگی   گزارتے   ہیں
قرض   یوں    کونسا   اُتارتے   ہیں؟

عمر  بھر  گھر  سے  دور رہ رہ کر
کیا  بگاڑا  تھا،  کیا   سنوارتے   ہیں؟

2
خاک  میں  خون  کہاں  چھپتا  ہے
آنکھ  میں   آنسو   کہاں   رُکتا  ہے

آندھیوں   کے   بُرے   زمانے   میں
ٹوٹتا   جو   نہیں   وہ   جُھکتا   ہے

3
درد  جو  دِل  میں  ہے  پھیلا  دوں  گا
سارے  عالم   کو   دِل   بنا   دوں   گا

منہ  چھپاتے  پھرو  گے خود سے بھی
آئینہ   جب   کبھی    دکھا    دوں    گا

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں۔ مصنف کے کام کے کسی بھی حصے کی فوٹو کاپی، سکیننگ کسی بھی قسم کی اشاعت مصنف کی اجازت کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔

میں سمجھتا رہا کہ یہ رباعیات ہیں۔ جبکہ یہ تو قطعات ہے۔ معلومات میں اس اضافے کے لئے میں محمد وارث صاحب کا شکر گزار ہوں۔ وارث صاحب کا بلاگ ملاحظہ ہو
muhammad-waris.blogspot.com

Advertisements

4 تبصرے

  1. ahmedshaikhm said,

    فروری 16, 2010 بوقت: 12:36 شام

    بھائی نعیم اگر آپ کی اجازت ہو تو آپکے شعر کو آپ کے نام اور آپ کی ویب سائٹ کے حوالے کے ساتھ، اپنے فیس بک پر استعمال کر سکتا ہوں؟

  2. Saad said,

    فروری 17, 2010 بوقت: 9:26 صبح

    واہ۔ بہت خوب جناب

  3. مئی 20, 2010 بوقت: 10:04 صبح

    معذرت خواہ ہوں یہ لکھتے ہوئے کہ یہ رباعیات نہیں ہیں، قطعات کہہ سکتے ہیں کہ رباعی کی بحر میں نہیں ہیں۔

    مزید برآں، پہلے قطعے کے علاوہ باقی دونوں قطعات کے کچھ مصرعے بے وزن ہیں۔

    بہرحال کاوش آپ کی اچھی ہے۔


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: