ایک غزل، ہمارے آج کے نام


ایک غزل، ہمارے آج کے نام

دور   رہتے   ہیں   پرے    رہتے    ہیں

لوگ   لوگوں   سے   ڈرے   رہتے  ہیں

موت   کا   خوف   ہے  لیکن  پھر  بھی

سارے    بازار   بھرے     رہتے    ہیں

روح   کا  کیا    ہے    اِسے    قتل  کرو

جسم   کے   دام    کھرے    رہتے   ہیں

کام    پہ    عمر      گزر    جاتی    ہے

طاق  میں   خواب   دھرے   رہتے  ہیں

وقت   کے    ساتھ   بہے    جاتے    ہیں

گویا   جیتے    جی    مرے   رہتے  ہیں

نعیم   گلشن    میں    خزاں    آ   جاءے

آس     کے    پیڑ    ہرے    رہتے   ہیں

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں۔ مصنف کے کام کے کسی بھی حصے کی فوٹو کاپی، سکیننگ کسی بھی قسم کی اشاعت مصنف کی اجازت کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔

Advertisements

4 تبصرے

  1. ahmedshaikhm said,

    فروری 9, 2010 بوقت: 4:58 شام

    بھائی نعیم، میں اردو ادب سے زیادہ تو واقف نہیں، مگر آپ کے اشعار میں اعتدال ضرور دیکھتا ہوں۔

    آپ کی شاعری میں درد ہے، اور جو سچ ہے، تلخ ہے۔

    برائے مہربانی کچھ مثبت پہلو کو بھی اجاگر کریں، یہ جو تلخ حقیقتیں ہیں، ان کا مشاہدہ تو ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں، معاملات میں، معاشرت میں، اخبار و رسائل میں، ٹی وی پر دیکھ، سن اور محسوس کر ہی رہے ہیں۔ اس لئے، اس سچ سے اکتاہٹ سی ہونے لگی ہے۔

    • Naeem said,

      فروری 10, 2010 بوقت: 6:01 صبح

      بہت شکریہ احمد صاب، غزل کا مقطع کافی امید افروز ہے
      نعیم گلشن میں خزاں آ جائے
      آس کے پیڑ ہرے رہتے ہیں

  2. BILLU said,

    فروری 10, 2010 بوقت: 11:13 صبح

    buhat zabardast

  3. فروری 12, 2010 بوقت: 1:08 شام

    this is beautiful … keep sharing


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: