پہلے والی بات نہیں ہے


پہلے    والی    بات      نہیں     ہے
بادل    ہیں    برسات      نہیں     ہے

ہجر   بھری    ہے     بپتا      ساری
وصل  کا  دِن  اور   رات   نہیں  ہے

ذرّہ   ذرّہ      بکھر       رہا     ہوں
کچھ   بھی    میرے   ہات   نہیں ہے

عشق   نہ   کھیل  نہ   سودے   بازی
جیت    نہیں   ہے،  مات   نہیں   ہے

دھوپ   میں   آ   کر   ہم   نے   جانا
سایا  تک    بھی    ساتھ    نہیں   ہے

مٹی   میں   سب    مِل    جائے    گا
لوگوں     کو      اثبات     نہیں     ہے

جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں۔ مصنف کے کام کے کسی بھی حصے کی فوٹو کاپی، سکیننگ کسی بھی قسم کی اشاعت مصنف کی اجازت کے بغیر نہیں کی جا سکتی۔

Advertisements

3 تبصرے

  1. فروری 3, 2010 بوقت: 9:44 شام

    بہت اچھے
    — پوسٹ سکرپٹ میں جملہ حقوق کے پیغام میں فوتو کاپی یا سکیننگ کرنے کی سمجھ نہیں آئی ؛)

    • Naeem said,

      فروری 4, 2010 بوقت: 9:15 صبح

      بھولے باشاہو ہر بات کو سمجھنا ضروری بھی نہیں ہوتا۔۔۔ کیا پتہ کوئی سائنسدان پرنٹ نکال کے فوٹو کاپی کر لے۔۔۔ یا دوبارہ سکین کرنا شروع کر دے۔۔۔

  2. ریاض شاہد said,

    فروری 10, 2010 بوقت: 9:10 شام

    بادشاہ بھولے نہیں ہوتے اور بھولے بادشاہ نہیں ہوتے ہاں پولے بادشاہ ہوسکتے ہیں ۔


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: