ایک سوال


Advertisements

3 تبصرے

  1. ahmedshaikhm said,

    فروری 9, 2010 بوقت: 4:53 شام

    انشاءاللہ، آپ کی چیز آپ کی اپنی ہے، لہذا اگر یہ خدا نخواستہ چوری ہو بھی جائے تو، جو درد آپ کی شاعری میں ہے وہ چوری نہیں کیا جاسکتا، جو آپ کی سوچ ہے وہ چوری نہیں کی جاسکتی۔

    احتیاط کے طور پر، اپنی شاعری کو مختلف رسائل و جرائد میں شائع کراواتے رہیں، تاکہ آپ کے پاس پروف رہے کہ، چوری ہونے والا شعر آپ کا تھا۔

    • Naeem said,

      فروری 10, 2010 بوقت: 6:03 صبح

      آپ نے اچھا مشورہ دیا ہے۔۔۔ اس اتوار کو روزنامہ پاکستان کے سنڈے میگزین میں میری ایک غزل چھپی تھی۔۔۔

  2. اپریل 29, 2010 بوقت: 3:58 صبح

    چوری تو کاغذ پہ شائع شدہ مواد بھی ہو جاتا ہے۔ آپ یہاں اپنی شاعری جمع کرنا جاری رکھیں۔ رسالوں ، اخباروں میں شائع شدہ مواد کچھ عرصے میں ردی کی نذر ہو جاتا ہے۔ نیٹ پہ یہ آنے والے طویل عرصے کے لیئے قارئین کے لیئے دستیاب رہتا ہے۔


جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: