وعدہ معاف

دیکھ تو، وعدہ معاف کتنے ہیں

لوگ تیرے، خلاف کتنے ہیں

آئے دِن، ٹوٹ کر برستا ہے

آسماں میں شگاف، کتنے ہیں
نعیم اکرم ملک

 

ٹھگ

apple-love-heart-poetry-Punjabi

 ایہہ سب توں وڈا ٹھگ سجنا

نہ دل دے آکھے لگ سجنا

یا تیریاں گلاں سچیاں نیں
یا جھوٹا سارا جگ سجنا

وچ دوزخ ہر کوئی کھڑدا اے
بس اپنی اپنی آگ سجنا


یا عرشاں اتے لا ڈیرا
یا مل میری شہہ رگ سجنا


نعیم اکرم ملک

اوورسیز پاکستانی

hand-wound-red

 

اگرچہ لوٹ آیا ہے

وہ کھا کر چوٹ آیا ہے

جہاں انسان ہوتا تھا

وہاں روبوٹ آیا ہے

کہیں تو کوئی گڑبڑ ہے

کہیں تو کھوٹ آیا ہے

گنوا کر آبرو ناداں

کما کر نوٹ ایا ہے

نعیم اکرم

صبر کا امتحان لیتا ہے

crayon-heart-khizan-poetry

صبر کا امتحان لیتا ہے

جان لیوا ہے، جان لیتا ہے

دِل ہماری تو اِک نہیں سُنتا

تُو جو کہتا ہے، مان لیتا ہے

نعیم اکرم ملک

 

پنڈاں والے جھلے لوگ

پنڈاں والے، جھلے لوک

شہراں اندر، کلے لوک

شعراں راہیں درد سناواں

کردے بلّے بلّے لوک

اچیاں اچیاں شاناں والے

لُک گئے دھرتی تھلے لوک

اپنے فن دی، بولی لاون

آپ ای اپنے دلۤے لوگ

نعیم اکرم

نوٹ: دلؔا گالی ہے البتہ اسکے لفظی معنی بیچ میں پڑ کے سودا کروانے والے کے ہیں۔ ایک طرح سے کمیشن ایجنٹ۔ یہاں اس لفظ کو گالی کے طور پر نہیں استعمال کیا گیا۔

وسوسہ

وسوسہ

میری تازہ غزل، وسوسہ۔

پریشانیاں اور دکھ شاعر کو اندر سے کھا جاتے ہیں لیکن اگر یہ چیزیں نہ ہوں تو شاید کوئی اچھا شعر بھی کہہ نا پائے۔

چوٹ پڑتی ہے تو آواز آتی ہے۔ اور فنکار عام آدمی سے ذرا زیادہ حساس ہوتے ہیں اسلئے انکی آواز بھی زیادہ آتی ہے۔

سر اُٹھاتا ہے وسوسہ صاحب
جان لیواہے مرحلہ صاحب
وہ جو اِک پھول تھا، گیا مُرجھا
جو ستارہ تھا، بُجھ گیا صاحب
کاٹتا ہے یہاں پہ ہر کوئی
اپنے حصے کا رتجگا صاحب
بات دِل میں رکھی نہیں جاتی
بول دیتے ہیں برملا صاحب
ایک دوجے کے ساتھ چلتے ہیں
راستہ، موت، حادثہ صاحب
نعیم اکرم

غزل – فرصت و اختیار کے دِن تھے

فرصت و اختیار کے دِن تھے

کتنے اچھے بہار کے دِن تھے

وہ جو شامیں حسین شامیں تھیں

وہ جو دِن تھے، خمار کے دِن تھے

آپکے ساتھ ہوا کرتے تھے

قربت و افتخار کے دِن تھے

نعیم اکرم

سانپ جو آستیں میں رہتا ہے

سانپ جو آستیں میں رہتا ہے
زلزلے سا زمیں میں رہتا ہے
جوہری دیکھ بھی نہیں سکتا
بال چھپ کر نگیں میں رہتا ہے
سوچ چھوٹی بہت نعیمؔ کی ہے
آج کل میں یہیں میں رہتا ہے
نعیم اکرم

الہام

Urdu Poetry Wallpaper

Urdu Poetry Wallpaper

کام، ناکام ہوا کرتے ہیں

لوگ، گمنام ہوا کرتے ہیں

چوٹ، سینے پہ لگا کرتی ہے

شعر، الہام ہوا کرتے ہیں

نعیم اکرم ملک

 

جل پری

جل پری

جل پری

وہم ہونا خیال ہونا تھا

زندگی کو سوال ہونا تھا

تو مثالیں سنایا کرتا تھا

آپ تجھ کو مثال ہونا تھا

کس نے سوچا تھا عشق میں اک دن

نعیم تیرا یہ حال ہونا تھا

جل پری کے نصیب ایسے تھے

سارے دریا کو جال ہونا تھا

 نعیم اکرم

نوٹ: ایک شعر توقیر عباس شاہ صاحب کی تصحیح کی وجہ سے حذف کیا گیا ہے۔

« Older entries

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 1,394 other followers