ویڈیوز کی کوالٹی فارغ سی ہے، موبائل سے بنائی ہیں۔۔۔ کمرے میں روشنی بھی بس ٹھیک ہی تھی۔۔۔ بہر حال۔۔۔ ویڈیوز تو اپ لوڈ کر دی نا۔۔۔ کوئی دو ہفتے پہلے لکھی ہوئی غزلوں کو روک کے رکھنا اب میرے لئے خاصا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔ غزلوں کا ٹرانسکرپٹ ذیل میں درج ہے۔۔۔
میں نے پوچھا سوال، کیسا ہے؟
کچھ بتا تیرا حال، کیسا ہے؟
روز و شب کس طرح گزارے ہیں؟
اب جہانِ خیال کیسا ہے؟
تھا تجسس مجھے پتہ تو چلے
تیرا حسن و جمال کیسا ہے؟
اور پھر! کیسی ہے انا تیری؟
تیرا جاہ و جلال کیسا ہے؟
الجھا الجھا دکھا ئی دیتا ہے
کس نے جکڑا ہے، جال کیسا ہے؟
چھوڑ جائوں یہ تری خواہش تھی
بھول بھی جا ملال کیسا ہے؟
گر یقیں ہے میری محبت پر
لوٹ آنا محال، کیسا ہے؟
بس گردشِ دوراں سے ہی فرصت نہیں مِلی
ایسا تو نہیں ہے کہ محبت نہیں ملی
گو دِل پذیر لوگوں سے بھی واسطہ رہا
جو دِل پہ گزر جائے، قیامت نہیں مِلی
ہم نے حسین چہروں کی تاریخ چھان دی
لیکن وفا کی کوئی روایت نہیں مِلی
پھر آج تعجب سے مجھے اُس نے یہ پوچھا
او نعیم! تیری کوئی شکایت نہیں مِلی
حجاب said,
December 8, 2010 at 6:53 pm
آپ کے پیچھے تکیہ ہے یا کُشن ٹھیک سمجھ نہیں آیا ،، مگر اُس کا رنگ اچھا لگا ۔۔
Naeem said,
December 8, 2010 at 7:58 pm
دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا تھا، جامنی والا۔۔۔ تکیہ ہے۔۔۔ اور میں بھینگا نہیں ہوں، ویڈیو میں جو ادھر اُدھر دیکھتا پایا جاتا ہوں، حالات ہی کچھ ایسے تھے۔۔۔ ایک ہاتھ میں کاغذ پر غزل لکھ کر اٹھائی ہوئی تھی دوسرے ہاتھ میں کیمرہ۔۔۔ غزل والے ہاتھ میں لائٹ والا موبائل اور بڑا شیشہ بھی تھا۔۔۔
حجاب said,
December 9, 2010 at 5:40 pm
نعیم صاحب میں نے تو کچھ لکھا ہی نہیں کہ آپ کیسے ہیں ۔۔ پھر وضاحت کیسی
Naeem said,
December 9, 2010 at 6:40 pm
تو میں کب کہہ رہا ہوں کہ آپ نے کچھ لکھا ہے۔۔۔ ایسے ہی ذہن میں آ گیا کہ یا ساری ویڈیو میں کبھی ادھر دیکھ رہا ہوں کبھی اُدھر۔۔۔ ناظرین کہیں بھینگا ہی نہ سمجھ لیں۔۔۔ میرے خیال میں بہتر ہو گا کہ پوسٹ کے نیچے پوسٹ سکرپٹ لکھ دوں
دوست said,
December 10, 2010 at 2:40 pm
غزلیں پسند آئیں۔