کوئی حیوان چھپا بیٹھا ہے
ایک ہیجان چھپا بیٹھا ہے
اِس دمکتے ہوئے کاشانے میں
قصرِ ویران چھپا بیٹھا ہے
کیا خبر سُوٹ بُوٹ کے پیچھے
کیسا انسان چُھپا بیٹھا ہے
بن کے ایاز تیری محفل میں
دیکھ سُلطان چھپا بیٹھا ہے
خیر و شر کا تمام اِس دِل میں
ساز و سامان چھپا بیٹھا ہے
دیکھ کر تجھکو یقیں ہوتا ہے
تجھ میں بھگوان چھپا بیٹھا ہے
اٹھ گئی جگنوئوں سے پابندی
تو کہ انجان چھپا بیٹھا ہے
ایک اک جُنبشِ ابرو میں نعیم
لاکھ فرمان چھپا بیٹھا ہے
معذرت چاہتا ہوں، وقت کی کمی کے باعث اشعار کی فارمیٹنگ الائنمنٹ درست نہیں کر سکا۔